Ticker

6/recent/ticker-posts

مختصر پر اثر واقعہ نمبر 4

شوہر بیوی سے کتنے عرصہ تک دور رہ سکتاہے؟

از : مفتی محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں
8446393682
    امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی ﷲتعالیٰ عنہ رات کے وقت مدینہ طیبہ کی گلیوں میں (گلی کوچوں میں ) گشت لگارہے تھے کہ ایک مکان سے ایک جوان عورت کی آواز سنائی دی ۔ وہ اپنے شوہر کی جدائی میں یہ شعر پڑھ رہی تھی :

فوﷲ لو لا ﷲ تخشی عواقبہ
لزحزح من ھذا السریر جوانبہ

(ترجمہ: قسم بخدا ! اگر مجھ کو خوف خدا نہ ہوتا تو آج چار پائی کی چولیں ہل رہی ہوتیں ۔)

     حضرت عمر ؓ نے وجہ دریافت کی تو معلوم ہوا کہ کافی عرصہ ہوا اس کا شوہر جہاد میں گیا ہوا ہے۔ اس کی جدائی میں یہ شعر پڑھ رہی ہے ۔ حضرت عمر فاروق ؓ غمزدہ ہوئے ۔ گھر آکر اپنی بیٹی ام المؤمنین حضرت حفصہؓ سے دریافت کیا کہ عورت شوہر کے بغیر کتنی مدت تک صبرکر سکتی ہے ؟ انہوں نےعرض کیا کہ چار ماہ۔چنانچہ آپ نے فرمان جاری کیا کہ شادی شدہ فوجی کو چار ماہ ہونے پر اپنے گھر جانے کی اجازت دے دی جائے۔

ایک اہم مسئلہ اور اس کا جواب:
     بعض لوگوں کو شادی کےبعد معاشی مشکلات کے حل کےلیے یا زیادہ آمدنی کی امید پر اپنی بیویوں اور بچوں کو چھوڑکر بیرون شہر یا بیرون ممالک جانا پڑتا ہے، اسی طرح بعض لوگ تعلیم کے حصول یا دینی خدمت کی غرض سے لمبے عرصے کے لیے بیرون شہر یا ملک جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کو بیویوں سے سال دوسال بلکہ اس سے بھی زیادہ مدت تک دور رہنا پڑتا ہے، سوال یہ ہے کہ ایسے حالات میں بیویوں سے دور رہنے کی شرعاًاجازت ہے یا نہیں؟
    اس سلسلے میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ بیوی کی حاجت، خواہش اور حقوق کا لحاظ بیحدضروری ہے ۔ جس طرح مرد کو عورت کی خواہش اور ضرورت ہوتی ہے ۔ عورت کو بھی مرد کی خواہش اور ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے فقہا ئے کرام ؒ فرماتے ہیں کہ مرد عورت کی اجازت اور رضا مندی کے بغیر چار ماہ سے زائد دور نہ رہے۔(شامی)
     دوسری بات یہ ہے کہ شوہر پر جس طرح بیوی کا نان ونفقہ ادا کرنا واجب ہے اسی طرح بیوی کی عزت وناموس کی حفاظت کرنا اور بیوی کو گناہوں میں مبتلا ہونے سے بچانا ضروری ہے، قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اے ایمان والو تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو (دوزخ کی) اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن (اور سوختہ) آدمی اور پتھر ہیں۔ (سورۃالتحريم) 
     ایک روایت میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر بن خطابؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اپنے آپ کو جہنم سے بچانے کی فکر تو سمجھ میں آگئی (کہ ہم گناہوں سے بچیں اور احکامِ الٰہی کی پابندی کریں) مگر اہل و عیال کو ہم کس طرح جہنم سے بچائیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو جن کاموں سے منع فرمایا ہے ان کاموں سے ان سب کو منع کرو اور جن کاموں کے کرنے کا تم کو حکم دیا ہے تم ان کے کرنے کا اہل وعیال کو بھی حکم کرو تو یہ عمل ان کو جہنم کی آگ سے بچا سکے گا ۔( معارف القرآن)
لہذا اگر 
   1) شادی کے بعد گھر سے دور رہنے میں بیوی کی عزت وناموس اور اس کی حفاظت کا انتظام نہ ہو، یا شوہر کے دور ہونے کی وجہ سے اس کے گناہ اور فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں شوہر کے لیے بیوی کو ایسی حالت میں تنہا چھوڑ کر شہر سے دور ملازمت کرنا درست نہیں ہے۔
 2) اگر یہ اندیشہ نہ ہو تو پھر شہر سے دور ملازمت کرنا جائز ہے، لیکن اس صورت میں بیوی کی رضامندی کے بغیر چار مہینہ سے زیادہ گھر سے دور رہنا جائز نہیں ہے، اس میں بیوی کی حق تلفی ہے۔
3) اگر بیوی بخوشی اِجازت دیتی ہے، تو چار ماہ سے زائد بھی رہ سکتے ہیں۔
  حاصل یہ ہے کہ بیوی کی عزت وناموس کے حفاظت کے انتظام کے بعد گھر سے دور ملازمت کرنے کی صورت میں اگر چار ماہ سے کم میں گھر میں واپسی ہوجاتی ہے تو اس میں بیوی کی حق تلفی نہیں ہے اور چار ماہ سے زیادہ باہر رہنے کے لیے بیوی کی رضامندی ضروری ہے۔
    لھذا اپنے گردو پیش کے حالات کا جائزہ لے کر اپنے بڑوں اورسمجھ دار احباب سے مشورہ کرکے کوئی مناسب راستہ اختیار کرنا چاہیے، جس سے بیوی کی پریشانی بھی دور ہوجائے اور روزگار کا مسئلہ بھی حل ہوجائے۔

نوٹ: یہاں یہ بات ذکر کرنا ضروری ہے کہ بیرون جانے والے کسی بھی شخص کے متعلق یہ سوچنا کہ وہ محض روپیہ پیسہ کی چاہت میں اپنے گھر سے دور ہے یا کسی شخص کی بیوی کے متعلق یہ خیال کرنا کہ وہ شوہر کی غیر موجودگی سے مطمئن نہیں ہے یا اس کے متعلق کسی طرح کی غلط سوچ رکھنا بدگمانی ہے اور گناہ بھی، جس سے بچنا چاہیے۔ 
    الحمد للّٰہ! آج بھی اکثر و بیشتر خواتین اسلام معاشی مسائل کے سلسلے میں اپنے شوہروں کی مدد کرتی ہیں، ان کو باہر جانے کی بخوشی اجازت دیتی ہیں اور پھر اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں اپنی عزت نفس اور شوہر کے مال و اولاد کی پوری حفاظت بھی کرتی ہیں۔ خدا تعالیٰ ایسے تمام افراد کی مدد فرمائے جو اپنے اہل و عیال کی کفالت کے لیے رزق حلال حاصل کرنے کی جدو جہد کرتے ہیں اور قربانیاں پیش کرتے ہیں۔
٭ ٭ ٭

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے