Ticker

6/recent/ticker-posts

بیوہ کا مہر اور اس کی ادائیگی میں کوتاہی

تحریر:مفتی محمد عامریاسین ملی

جب کسی کا انتقال ہوجائے تو یہ دیکھنا چاہیے کہ مرنے والے نے بیوی کا مہر ادا کیا ہے یا نہیں ؟ اگر بیوی کا مہر ادا نہ کیا ہو تو دوسرے قرضوں کی طرح اولاً کل مال سے مہر کا قرض ادا ہوگا،اس لیے کہ مرحوم شوہرکے ذمہ لازم تھا کہ وہ اپنی زندگی میں ہی بیوی کا مہر ادا کردیتا ،اب جب کہ اس کا انتقال ہوچکا ہےتو اس کے وارثین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مرحوم کے ترکہ میں سے پہلے بیوہ کا حق مہر ادا کریں اس کے بعد ترکہ تقسیم کریں۔یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ اپنے مرحوم شوہر کے ترکے میں سے اپنا حق مہر حاصل کرنے والی بیوہ خود بھی اپنے شوہر کی وارث ہے ،لہذا وہ شوہر کی اولاد کی موجودگی میں کل ترکے کا آٹھواں حصہ یعنی آٹھ روپے میں سے ایک روپیہ اور اگر مرحوم شوہر کی اولاد نہ ہوتوچوتھا حصہ یعنی چار روپے میں سے ایک روپیہ پائے گی۔
ہمارے معاشرے میں بیوی یا بیوہ کے مہر کی ادائیگی کے سلسلے میں کوتاہی پائی جاتی ہے،ایسا بھی ہوتا ہےکہ پوری زندگی شوہر بیوی کا مہر ادا نہیں کرتا اور نہ بیوی مہر کا کبھی مطالبہ کرتی ہے،کچھ عرصہ پہلے تک تو یہ صورت حال تھی کہ اگر شوہر مہر ادا کرنا بھی چاہے تو ناواقفیت کی وجہ سے عورت اس اندیشہ میں مبتلا ہوجاتی تھی کہ کہیں شوہر مجھے طلاق تو نہیں دینا چاہتا ہے!
بعض علاقوں میں ایسا ہوتا ہے کہ اگر شوہر انتقال کرجائے اور اس نے بیوی کا مہر ادا نہ کیا ہو تو اسی وقت میت کے رشتے داروں کو مہر کی ادائیگی کی فکر لاحق ہوجاتی ہے،چنانچہ اس کا یہ حل نکالاجاتا ہے کہ بیوہ کو اپنے مرحوم شوہر کی میت کے پاس لایا جاتا ہے اور اس سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنا مہر معاف کردے، اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ مہر معاف ہوگیا ۔ظاہر سی بات ہے کہ بیوی خواہی نہ خواہی یہ سوچ کر مہر معاف کر دیتی ہوگی کہ شوہر جب زندگی میں مہر ادا نہیں کرسکا تو مرنے کے بعد کیسے ادا کرے گا؟یاد رکھنا چاہیے کہ اس طرح زبردستی مہر معاف کرانے سے شرعاً معاف نہیں ہوگا اور میت کے ترکہ میں سے بیوی کا مہر ادا کرنا ضروری ہوگا۔
بعض لوگوں نے پوچھا کہ ادھار مہر کی ادائیگی سے پہلے ہی اگر بیوی کا انتقال ہوجائے تو شوہر مہر کس طرح ادا کرے گا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی صورت میں بھی مرحومہ بیوی کا حق مہر شوہر کے ذمہ واجب الادا قرض ہوگاجس کی ادائیگی کی شکل یہ ہوگی کہ شوہرمہر کی رقم مرحومہ کے ترکہ میں شامل کردے گا جو اس کے شرعی وارثوں کے درمیان تقسیم کردیا جائے گا ۔ چونکہ بیوی کا انتقال ہوجانے کی صورت میں شوہر بھی بیوی کی میراث کا حقدار ہوتاہے ،لہذا مہر کی رقم میں سے میراث کے ضابطہ شرعی کے مطابق شوہر کا چوتھا یا نصف حصہ نکالنے کے بعد باقی رقم مرحومہ بیوی کے دیگر وارثین کے درمیان تقسیم کردی جائے گی۔
ایک اہم مسئلہ : 
بعض عمر رسیدہ افراد برسوں بعد مہر ادا کرنا چاہتے ہیں تو ان کے سامنے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہی پچھلی طے شدہ مہر (دو چار سو روپیہ)ادا کریں یا پھر موجودہ حالات کے مطابق اضافہ کے ساتھ ادا کریں ؟ جواب یہ ہے کہ ادھار روپیہ پیسہ میں آگے چل کر اضافہ نہیں ہوتا ، اس لئے شوہر پر طے شدہ رقم کی ادائیگی ہی لازم ہوگی ،ویسے بہتر طریقہ تو یہی ہے کہ نکاح کے وقت ہی مہر ادا کردیا جائے ، اور اگر مہر ادھار رکھنا ہو تو پھر روپیہ پیسہ کے بجائے زیور کی شکل میں مہر مقرر کی جائے تاکہ جب ادائیگی کی جائے تو زیور کی شکل میں ہونے کی وجہ سے اس کی قدر و قیمت میں اضافہ ہوسکے۔ خالص رقم کی شکل میں ادھار مہر نہ رکھی جائے کہ ایک عرصہ گزر جانے کے بعد وہ بے حیثیت ہوکر رہ جائے ۔ ویسے شوہر کو یہ اختیار ہے کہ وہ جب بھی مہر ادا کرے تو اپنی جانب سے اس میں جس قدر چاہے ، اضافہ کرکے ادا کرسکتا ہے ۔ یہی اختیار بیوی کو بھی ہے کہ مہر کی ادائیگی کے وقت وہ اگر چاہے تو بغیر کسی دباؤ کے خوش دلی سے مہر کا کچھ حصہ یا پورا حصہ معاف بھی کرسکتی ہے ۔
                      *-*-*

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے